مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ كَفَّارَةِ سَيِّئَاتِ الْمَرِيضِ وَمَا لَهُ مِنَ الْأَجْرِ] · حديث 3788
3788 - عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ: «دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - نَعُودُهُ مِنْ شَكْوَى أَصَابَهُ وَامْرَأَتُهُ نَحِيفَةٌ قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ قُلْتُ: كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ بَاتَ بِأَجْرٍ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَا بِتُّ بِأَجْرٍ وَكَانَ مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ عَلَى الْحَائِطِ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا قُلْتُ؟ قَالُوا: مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ عَنْهُ!؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبِسَبْعِمِائَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ [أ] وَعَادَ مَرِيضًا أَوْ مَازَ أَذًى، فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ [اللَّهُ] فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَسَارُ بْنُ أَبِي سَيْفٍ وَلَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَحَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی بیماری کی عیادت کے سلسلے میں حاضر ہوئےجوان کی لاحق ہوئی تھی ان کی اہلیہ جوایک کمزور خاتون تھیں جوان کے سرہانے کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں میں نے ان سے دریافت کیا: حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کیا حال ہے؟ تو انہوں نے بتایا: اللہ کی قسم انہوں نے اجر کے ہمراہ رات بسر کی ہے (یعنی رات بھر تکلیف کا شکار ہے ہیں) تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اجر کے ہمراہ رات بسر نہیں کی ہے پہلے ان کارخ دیوار کی طرف تھا پھر انہوں نے اپنارخ لوگوں کی طرف کر لیا اورارشادفر مایا: میں نے جو کہا ہے تم اس کے بارے میں دریافت نہیں کرو گے؟ لوگوں نے کہا: آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ہم اس کے بارے میں در یافت کرتے تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشادفر ماتے ہوئےسنا ہے:’’ جوشخص اللہ کی راہ میں ایک اضافی چیز خرچ کرتا ہے ‘ تو اس کا سات سو گنا اجر وثواب ہوتا ہے‘ اور جوشخص اپنی جان پر یا اپنے اہل خانہ پرخرچ کرتا ہے‘ یا بیمار کی عیادت کر تا ہے‘ یا کسی تکلیف دہ چیز کودور کرتا ہے‘ تو ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو تا ہے ‘ اور روزہ ڈھال ہے جب تک آدمی اسے توڑ نہ دے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کے حوالے سے کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے‘ تو یہ چیز اس کے لئے اس کے گناہوں کے کفارہ کا سبب بنتی ہے‘‘ ۔ یہ روایت امام احمداورامام ابویعلٰی اورامام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن ابوسیف ہے میں نے کسی کواس کو’’شقہ‘ ‘ قراردیتے ہوئےیا اس پر جرح کرتے ہوئےنہیں دیکھا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
أَلا تَسْأَلُونِّي عَمَّا قلت ← أَبُو عُبَيْدَةَ: مَا بِتُّ بِأَجْرٍ وَكَانَ مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ عَلَى الْحَائِطِ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ← وَاللهِ لَقَدْ بَاتَ بِأَجْرٍ، ← امْرَأَتُهُ نَحِيفَةٌ قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ قُلْتُ: كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ؟ ← دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ نَعُودُهُ مِنْ شَكْوًى أَصَابَهُ، ← عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of Atonement for the bad deeds of the sick and his wages] · Hadith 3788
