مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6328
6328 - وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَا تَكُنْ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ، وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا فَفِيهَا بَاضَ الشَّيْطَانُ وَفَرَّخَ» ". وَفِي رِوَايَةٍ: " فَإِنَّهَا مَعْرَكَةٌ ". أَوْ قَالَ: " «مَرْبَضُ الشَّيْطَانِ، وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى: الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْجَرْمِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَفِي الثَّانِيَةِ: يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’تم بازار میں داخل ہونے والے سب سے پہلے فرد نہ بننا اور وہاں سے نکلنے والے سب سے آخری فردنہ بننا‘(کیونکہ ) اس ( بازار) میں شیطان انڈے دیتا اور بچے دیتا ہے‘‘۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” و معرکہ (یعنی میدان جنگ ) ہے‘‘ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:’’ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے ‘اور یہیں وہ اپنا جھنڈ انصب کرتا ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے پہلی روایت میں ایک راوی قاسم بن یزید ہے اگر تو یہ جرمی ہے ‘تو پھر یہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال میں دوسری روایت میں ایک راوی یزید بن سفیان ہے اور وہ ضعیف ہے۔
سَلْمَانَ
Hadith 6328
