مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابُ الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ] · حديث 3470
3470 - عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَلِمَاتٍ أَقَوْلُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: " اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتُ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرَوَى أَحْمَدُ بَعْضَهُ كُلُّهُمْ مِنْ طَرِيقِ الْحُسَيْنِ كَمَا تَرَاهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْقُنُوتِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا، وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے کچھ کلمات کی تعلیم دی تھی، جنہیں میں وترمیں اور دعائے قنوت میں پڑھتا ہوں ( وہ کلمات یہ ہیں :)اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت عطا کی ہے ان کے ہمراہ مجھے بھی ہدایت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت کی ہے ان کے ہمراہ مجھے بھی عافیت عطافرما جن کا تو نگران بنا ہے ان کے ہمراہ میرا بھی نگران بن جا جوتو نے عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت رکھ دے جو تو نے فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچانا بے شک تو فیصلہ کرتا ہے تیرے مقابلے میں فیصلہ نہیں کیا جاتا اور جس کا تو نگہبان ہووہ ذلیل نہیں ہوتا ہمارا پروردگار برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے۔یہ روایت امام ابو یعلی نے نقل کی ہے امام احمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور ان سب حضرات نے اسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے جیسا کہ آپ ملاحظ فرمارہے ہیں۔اس روایت کے رجال ثقہ ہیں اس سے پہلے قنوت سے متعلق ایک روایت کا کچھ حصہ گزر چکا ہے آگے چل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز سے متعلق باب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آئے گی اگر اللہ نے چاہا۔
الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ،
Hadith 3470
