مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ بَابُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ] · حديث 5180
5180 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «صَامَ نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ الدَّهْرَ إِلَّا يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَصَامَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نِصْفَ الدَّهْرِ، وَصَامَ إِبْرَاهِيمُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَامَ الدَّهْرَ، وَأَفْطَرَ الدَّهْرَ». قُلْتُ: صِيَامُ نُوحٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَصِيَامُ دَاوُدَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو قَنَانٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : میں نے بنی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’حضرت نوحؑ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے صرف عید الفطراورعیدالاضحیٰ کے دن نہیں رکھتے تھے حضرت داؤد ؑ نصف زمانہ (یعنی ایک دن روزہ رکھتے تھے‘ اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ) حضرت ابراہیم ؑ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے یوں پوراز مانہ رکھا بھی گیا اور پوراز مانہ نہیں بھی رکھا گیا(یعنی ہردن کے روزے کا بدلہ دس گناہوتا ہے‘ تو یوں تین دن پورے مہینے کے برابر ہوں گے )‘‘۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : حضرت نوح ؑ کے روزہ رکھنے سے متعلق روایت کوامام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے ‘اور حضرت داؤدؑ کے روزہ رکھنے سے متعلق روایت’’صحیح‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتان ہے ‘اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › Chapter of three days of fasting every month] · Hadith 5180
