مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6449
6449 - «وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ رَجُلٌ يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: صَاحِبِي الَّذِي تَرَاهُ مَعِيَ اشْتَرَى قَوْسًا، وَأَهْدَاهَا إِلَيَّ، أَفَآخُذُهَا مِنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا " فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ عَادَ قَالَ: آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَا " ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ قَالَ: آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ أَفَلَا آخُذُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَكُونُ عُدَّةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَتُرِيدُ أَنْ تَلْقَى اللَّهَ يَا عَوْفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَيْنَ كَتِفَيْكَ جَمْرَةٌ مِنْ جَهَنَّمَ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے ساتھ ایک شخص تھا جسے وہ قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا میراوہ ساتھی جسے آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوا ہے وہ میرے ساتھ تھا اس نے کمان خریدی اور وہ مجھے تحفے کے طور پر دے دی کیا میں وہ اس سے لےلوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! وہ کچھ عرصہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا تو وہ دوبارہ آئے اور بولےیارسول اللہ ! میں وہ کمان لے لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جی نہیں! پھر وہ کچھ عرصہ ٹھہرے رہے پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں وہ کمان لے لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جی نہیں! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا میں اسے لے نہ لوں تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تیاری کے لئے شمار ہو‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اے عوف کیا تم یہ چاہتے ہو کہ قیامت کے دن جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو‘ تو تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان جہنم کا انگارہ رکھا ہوا ہو؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے۔
آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ ← لَهُ النَّبِيُّ لَا فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ عَادَ ← لِرَسُولِ اللَّهِ صَاحِبِي الَّذِي تَرَاهُ مَعِيَ اشْتَرَى قَوْسًا، وَأَهْدَاهَا إِلَيَّ، أَفَآخُذُهَا مِنْهُ؟ ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ رَجُلٌ يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ،
Hadith 6449
