مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ عَلَامَةِ الْقِبْلَةِ] · حديث 1980
1980 - «عَنْ جَابِرِ بْنِ أُسَامَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ بِالسُّوقِ فَقُلْتُ: أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَخُطَّ لِقَوْمِكَ مَسْجِدًا قَالَ: فَأَتَيْتُ وَقَدْ خَطَّ لَهُمْ مَسْجِدًا وَغَرَزَ فِي قِبْلَتِهِ خَشَبَةً فَأَقَامَهَا قِبْلَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
حضرت جابر بن اسامہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری بازار میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی موجود تھے میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں جا رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا آپ کا ارادہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہاری قوم کے لئے مسجد کا نشان مقرر کر دیں راوی کہتے ہیں : میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے مسجد کا نشان بنوا دیا تھا اور قبلہ کی سمت میں ایک لکڑی گاڑ دی گئی تھی اور اس کو قبلہ کے رخ میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن عبداللہ بن حبیب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔
يُرِيدُ أَنْ يَخُطَّ لِقَوْمِكَ مَسْجِدًا ← لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي أَصْحَابِهِ بِالسُّوقِ فَقُلْتُ: أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ أُسَامَةَ الْجُهَنِيِّ
Hadith 1980
