مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَحْكَامِ] ‹ [بَابٌ لَا يُحِلُّ حُكْمُ الْحَاكِمِ حَرَامًا] · حديث 7023
7023 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِنَّمَا أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا أَسْمَعُ مِنْكُمْ، وَلَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ أَخِيهِ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا ،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’میں ایک بشر ہوں ، میں تمہارے درمیان اس کے مطابق فیصلہ دیتا ہوں ، جو میں نے تم سے سنا ہوتا ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں اپنے بھائی سے زیادہ تیز زبان ہو، تو جس شخص کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ کر دوں، تو میں نے اسے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہوگا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبد الله بن عمر ہے اور وہ متروک ہے۔
بَشَرٌ إِنَّمَا ← "إِنَّمَا ← «اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Rulings] › [Chapter: Ruling’s Ruling Not Permissible Forbidden] · Hadith 7023
