مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِيمَا كُتِبَ بِالْأَمَانِ لِمَنْ فَعَلَهُ] · حديث 67
67 - «عَنْ مَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قُدُومُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَدَ إِلَيْهِ، فَقَبِلَ إِسْلَامَهُ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا يَدْعُو بِهِ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَكَتَبَ لَهُ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ وَلِمَنِ اتَّبَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَمَانًا لَهُمْ مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ، وَآتَوُا الزَّكَاةَ، وَاتَّبَعُوا الْمُسْلِمِينَ، وَجَانَبُوا الْمُشْرِكِينَ، وَأَدَّوُا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَسَهْمَ الْغَارِمِينَ، وَسَهْمَ كَذَا، وَسَهْمَ كَذَا - فَهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجُذَامِيُّ، وَلَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ.
حضرت مالک بن احمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی اطلاع ملی ، تو وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے کوئی تحریر لکھوا دیں ، جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے چمڑے کے ٹکڑے پر یہ تحریر لکھوائی : " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے، یہ تحریر ، اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مالک بن احمر کے لیے ، اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لیے ہے، یہ ان کے لیے امان نامہ ہے، جب وہ نماز قائم کرتے رہیں گے زکوٰۃ دیتے رہے گے، مسلمانوں کی پیروی کرتے رہے گے مشرکین سے لاتعلق رہیں گے، مال غنیمت میں سے خمس ادا کریں گے، غار مین کا حصہ ، اور فلاں حصہ، اور فلاں حصہ ادا کریں گے، تو یہ لوگ ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی امان ، اور اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ملنے والی امان کے تحت محفوظ رہیں گے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن منصور جذامی ہے، میں اس کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا۔
Hadith 67
