مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ قَبْلَ قَضَاءِ نُسُكِهَا] · حديث 5677
5677 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «أَمِيرَانِ وَلَيْسَا بِأَمِيرَيْنِ: الْمَرْأَةُ تَحُجُّ مَعَ الْقَوْمِ فَتَحِيضُ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ; فَلَيْسَ لِأَصْحَابِهَا أَنْ يَنْفِرُوا حَتَّى يَسْتَأْمِرُوهَا، وَالرَّجُلُ يَتْبَعُ الْجِنَازَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يَسْتَأْمِرَ أَهْلَ الْجِنَازَةِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ بِهَذَا اللَّفْظِ مِنْ وَجْهٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ دو قسم کے امیر ایسے ہیں جو درحقیقت امیر نہیں ہیں ایک وہ عورت جو کچھ لوگوں کے ساتھ حج کے لئے جاتی ہے اور پھر بیت اللہ کا طواف زیارت کرنے سے پہلے اسے حیض آجاتا ہے ‘ تو اب اس کے ساتھیوں کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس سے اجازت لئے بغیر روانہ ہوں اور وہ شخص جو جنازے کے ساتھ جاتا ہے اور نماز جنازہ ادا کرتا ہے اسے واپس جانے کا حق نہیں ہے جب تک وہ جنازے کے متعلقین سے اجازت نہیں لے لیتا‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں: ان الفاظ میں یہ روایت اس سے زیادہ عمدہ سند کے ساتھ ہمارے علم میں نہیں ہے۔
جَابِرٍ
Hadith 5677
