مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ التَّوَضُّؤِ مِنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا إِذَا دُبِغَتْ] · حديث 1087
1087 - «عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ، فَهَلْ عِنْدَكِ مَاءٌ؟ قَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ، وَلَا أَعَزَّ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُحْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهَا فَهِيَ طَهُورُهَا ". قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ: أَيْ وَاللَّهِ لَقَدْ دَبَغْتُهَا. فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَا.
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا' میں ایک خیمے کے پاس آیا ' جس میں ایک دیہاتی عورت موجود تھی ' میں نے کہا: اللہ کے رسول ' وضو کےلیے پانی طلب کر رہے ہیں' کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ اس عورت نے کہا: میرے ماں باپ ' اللہ کے رسول پر قربان ہوں ' اللہ کی قسم ! آسمان نے ایسی کسی روح پر سایہ نہیں کیا' ہے جو مردار کی کھال کا بنا ہوا ہے لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کے ذریعے اللہ کے رسول کو نجس کر دوں ( حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا ' اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا' تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اس عورت کے پاس واپس جاؤ' اگر اس عورت نے اس چمڑے کی دباغت کر لی تھی ' تو پھر وہ (دباغت) اس (چمڑے) کو پاک کر دے گی' راوی بیان کرتے ہیں: میں اس عورت کے پاس گیا ' میں نے اس کے سامنے یہ بات ذکر کی ' اس نے کہا:جی ہاں! اللہ کی قسم! میں نے اس کی دباغت کی ہے ( حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:) ت میں اس میں سے(نبی اکرم ) کے لیے پانی لے آیا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ' امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ' اس کی سند میں یہ مذکور ہے: اسےعلی بن یزید نے قاسم سے نقل کیا ہے ' ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ' اور ان دونوں کو ثقہ بھی قرارد یا گیا ہے۔
الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › The door of ablution from dead skins and the use thereof if it is tanned] · Hadith 1087
