مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى] · حديث 1717
1717 - عَنِ الزِّبْرِقَانِ قَالَ: «إِنَّ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ مَرَّ بِهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ غُلَامَيْنِ لَهُمْ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، فَقَالَ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْهُمْ فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ، وَلَا يَكُونُ وَرَاءَهُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ، وَالنَّاسُ فِي قَائِلَتِهِمْ وَفِي تِجَارَتِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ)» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَقَالَ الشَّيْخُ فِي الْأَطْرَافِ: لَيْسَ فِي السَّمَاعِ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَبُو الْقَاسِمِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ الزِّبْرِقَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَلَا مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
زبر قان بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ، وہ لوگ اکٹھے تھے، انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف اپنے دو غلام بھیجے اور ان سے یہ سوال کیا: کہ درمیانی نماز سے مراد کیا ہے؟ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ عصر کی نماز ہے، پھر ان لوگوں میں دے دو افراد اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور اس سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا : یہ ظہر کی نماز ہے، پھر وہ دونوں صاحبان حضرت اسامہ بن زید کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: ، تو انہوں نے بھی فرمایا : اس سے مراد ظہر کی نماز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر میں ادا کر لیتے تھے، جب کہ آپ کے پیچھے ایک صف یا دو صفیں موجود ہوتی تھیں ، باقی ، لوگ اس وقت یا قیلولہ کر رہے ہوتے تھے، یا تجارت میں مصروف ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نال کی : " تم لوگ نمازوں کی حفاظت کرو، اور درمیانی نماز کی بھی، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو" اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ یہ روایت امام نسائی نے نقل کی ہے ، شیخ نے " اطراف " میں یہ بات بیان کی ہے: یہ سماع میں نہیں ہے ، اور نہ ہی ابو القاسم نے اس کا ذکر کیا ہے، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ زبر قان نامی راوی نے نہ تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، اور نہ ہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
الزِّبْرِقَانِ
Hadith 1717
