مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يُعَدُّ فَرَطًا أَوْ مُصِيبَةً] · حديث 4004
4004 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرًا، وَفَتَحَ بَابًا فِي مَرَضِهِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ يُصَلُّونَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَسُرَّ بِذَلِكَ، وَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ "، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُصِيبَ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِمْ بِي» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور دروازہ کھولا یہ آپ کی بیماری کے دوران کی بات ہے آپ نے لوگوں کود یکھا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے۔ آپ اس بات پرخوش ہوئے اور ارشاد فرمایا: ہرطرح کی حد اللہ تعالی ٰکے لئے مخصوص ہے کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت کے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جس بھی شخص کو میرے بعد کوئی مصیبت لاحق ہو ‘ تو وہ اپنی اس لاحق ہونے والی مصیبت کے وقت میرے حوالے سے مصیبت کے ذریعے خود کو سہارا دے ‘ کیونکہ میری امت کو میرے بعد کوئی ایسی مصیبت لاحق نہیں ہوگی ‘ جو اس مصیبت کی مانند ہو ‘ جو انہیں میرے حوالے سے لاحق ہوئی ہوگی‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید اللہ بن جعفر بن نجیح مدنی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter in what is considered a surplus or misfortune] · Hadith 4004
