مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ مَنْعِهِ مِنَ الْجَبَابِرَةِ] · حديث 5766
5766 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا «سُمِّيَ الْبَيْتُ الْعَتِيقَ لِأَنَّهُ أُعْتِقَ مِنَ الْجَبَابِرَةَ فَلَمْ يَنَلْهُ جَبَّارٌ قَطُّ "، " أَوْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قِيلَ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اس کا نام بیت عقیق اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے ظالم لوگوں سے آزاد کر دیا گیا ہے کوئی ظالم اس تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کوئی ظالم اس پر قابو نہیں پاسکے گا‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے یہ بات کہی گئی ہے : وہ ثقہ اور مامون ہے ائمہ یعنی احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،
Hadith 5766
