مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابُ نَقْلِ الطَّعَامِ] · حديث 6466
6466 - عَنْ سِيمَوَيْهِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعْتُ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي وَحَمَلْنَا قَمْحًا مِنَ الْبَلْقَاءِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَبِعْنَا وَأَرَدْنَا أَنْ نَشْتَرِيَ تَمْرًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَمَنَعُونَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَبَّرْنَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلَّذِينِ مَنَعُونَا: " أَمَا يَكْفِيكُمْ رُخْصُ هَذَا الطَّعَامِ بِغَلَاءِ هَذَا التَّمْرِ الَّذِي تَحْمِلُونَهُ، ذَرُوهُمْ يَحْمِلُونَهُ». وَكَانَ سِيمَوَيْهِ مِنَ الْبَلْقَاءِ نَصْرَانِيًّا شَمَّاسًا، فَأَسْلَمَ، وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.
حضرت سیمویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اپنے کانوں کے ساتھ آپ کی زبانی یہ بات سنی ہم بلقاء سے گندم لاد کر مدینہ لاتے تھے اور اسے فروخت کیا کرتے تھے ہمارا ارادہ یہ ہوتا تھا کہ ہم مدینہ سے کھجوریں خرید لیں گے تو لوگوں نے ہمیں اس سے منع کر دیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس سے منع کر دیا اور ارشاد فرمایا : کیا تمہارے لئے یہ چیز کافی نہیں ہے کہ یہ کھجور جوتم لاد کر لے جاؤ گے اس کے مہنگی ہونے کے عوض میں یہ ا ناج سستا ہے تم انہیں ایسے ہی رہنے دو! یہ اسے لاد کر لے جائیں گے۔ سیمو یہ نامی راوی بلقاء سے تعلق رکھنے والے عیسائی تھے پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام عمدہ ہوا وہ ایک سوبیس سال کی عمر تک زندہ ر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے کہ میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا۔
اَتَیْتُ النَّبِیَّ ← سيمويه
Hadith 6466
