مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَلْبِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ] · حديث 224
224 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَيْهِ غِلَافُهُ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ، وَقَلْبٌ مُصَفَّحٌ ; فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِيهِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصَفَّحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقَرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " دل چار قسم کے ہوتے ہیں ، ایک دل جو مجرد ہو، اس میں چراغ روشن ہوتا ہے ، ایک وہ دل جو پردے میں ہوتا ہے ، اس پر اس کا غلاف چڑھا ہوتا ہے، ایک دل اوندھا ہوتا ہے، اور ایک دل کشادہ ہوتا ہے ، جہاں تک مجرو دل کا تعلق ہے، تو وہ ،مؤمن کا دل ہے جس میں اس کا چراغ موجود ہوتا ہے اور اس میں اس کی روشنی ہوتی ہے ، جہاں تک غلاف والے دل کا تعلق ہے، تو وہ کافر کا دل ہوتا ہے، جہاں تک اوندھے دل کا تعلق ہے ، تو وہ منافق کا دل ہوتا ہے، جو ( حق کو ) پہچان لیتا ہے اور پھر انکار کر دیتا ہے، جہاں تک کشادہ دل کا تعلق ہے ، تو وہ ایسا دل ہے، جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی ہوتا ہے ، اس میں موجود ایمان کی مثال سبزی کی مانند ہے، جسے صاف پانی بڑھا دیتا ہے، اور اس میں موجود نفاق کی مثال ، اس زخم کی مانند ہے، جس میں پیپ اور خون زیادہ ہوتا ہے ، تو دونوں میں سے جس کی زیادتی ، دوسرے پر غالب آ جائے ، وہ حالت دوسری پر غالب آ جاتی ہے " ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ
Hadith 224
