مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَا كَانَ دُونَ النِّصَابِ وَمَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ] · حديث 4378
4378 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَا خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا ہے: ’’ پانچ سے کم اونٹوں میں ،پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی میں ) اور پانچ وسق سے کم (اناج میں ) ز کوٰۃ لازم نہیں ہوتی ہے‘‘۔یہ روایت امام احمد ،امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابو سلیم ہے وہ ثقہ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 4378
