مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ عِيَادَةِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ] · حديث 3787
3787 - عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ أَبَا طَالِبٍ مَرِضَ فَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي ادْعُ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اشْفِ عَمِّي " فَقَامَ أَبُو طَالِبٍ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ لَيُطِيعُكَ قَالَ: " وَأَنْتَ يَا عَمِّ إِنْ أَطَعْتَ اللَّهَ لَيُطِيعُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جُمَازٍ الْبَكَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جناب ابوطالب بیمار ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم اپنے معبود سے جس کی تم عبادت کرتے ہواس سے یہ دعا کرو کہ وہ مجھے عافیت عطا کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ! میرے چچا کوشفاء عطا کر دے تو جناب ابوطالب یوں کھڑے ہوئےکہ جیسے انہیں رسیوں سے آزاد کر دیا گیا ہو۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے میرے بھتیجے! جس معبود کی تم عبادت کرتے ہووہ تمہاری بات مان لیتا ہے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا جان ! اگر آپ بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر یں گے تو وہ آپ کی بھی بات مان لے گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیشم بن جماز البکا ء ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ لَيُطِيعُكَ ← «اللَّهُمَّ اشْفِ عَمِّي» فَقَامَ أَبُو طَالِبٍ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ ← يَا ابْنَ أَخِي ادْعُ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ أَنْ يُعَافِيَنِي ← أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَالِبٍ، مَرِضَ فَعَادَهُ النَّبِيُّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of the practice of a non-Muslim] · Hadith 3787
