مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ] · حديث 1246
1246 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ بِدَابَّتِهِ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ عَنْ أَبِي دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو ' تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے ڈراتا ہے ' جس طرح آدمی اپنے جانوروں کے ڈراتا ہے ' اگر وہ شخص پر سکون رہے 'تو شیطان اس کی سرین کے درمیان ہوا خارج کرتا ہے ' تاکہ اس شخص کی توجہ نماز سے ہٹ جائے ' جب کوئی شخص اس طرح کی صورتحال پائے ' تو وہ نماز اس تک ختم نہ کرے ' جب تک وہ (اپنی ہو خارج ہونے کی ) آواز نہیں سنتا' یا بو محسوس نہیں کرتا "۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ' یہ امام ابو داؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ' امام احمد کے رجال "صحیح" کے رجال ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Hadith 1246
