مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ] · حديث 5105
5105 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ وَقَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: " مَا هَذَا مِنَ الصَّوْمِ؟ ". فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ، وَغَرِقَ فِيهِ فِرْعَوْنُ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ، فَصَامَ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ ". فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصَّوْمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ.
حضرت ابو ہر یرہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کا گز رکچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے عاشوراء کے دن روزہ رکھا ہوا تھا آپ نے در یافت کیا: یہ روز ہ کس وجہ سے ہے؟ انہوں نے بتایا یہ وہ دن ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی ؑ اور بنی اسرائیل کو ڈو بنے سے نجات دی تھی اور فرعون کو اس دن میں ڈبود یا تھا یہ وہ دن ہے‘ جس میں (حضرت نوحؑ کی) کشتی جودی پہاڑ کے ساتھ لگ گئی تھی تو حضرت نوح ؑ نے اور حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نے کے لئے (اس دن) روزہ رکھا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر ما یا: ہم لوگ حضرت موسیٰؑ کے زیادہ قریبی ہیں اور روزہ رکھنے کےزیادہ حق دار ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو ( اس دن )روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عبداللہ از دی ہے اس کے حوالے سے اس کےبیٹے کے علاوہ کسی اور نے روایت نقل نہیں کی ہے۔
هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى ← مَا هَذَا مِنَ الصَّوْمِ؟ ← «مَرَّ النَّبِيُّ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ وَقَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،
Hadith 5105
