مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ الْهِرِّ] · حديث 1084
1084 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَرْضٍ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا: بُطْحَانُ، فَقَالَ: " يَا أَنَسُ، اسْكُبْ لِي وُضُوءًا "، فَسَكَبْتُ لَهُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتَهُ أَقْبَلَ إِلَى الْإِنَاءِ وَقَدْ أَتَى هِرٌّ فَوَلَغَ فِي الْإِنَاءِ، فَوَقَفَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقْفَةً حَتَّى شَرِبَ الْهِرُّ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَ الْهِرِّ فَقَالَ: " يَا أَنَسُ، إِنَّ الْهِرَّ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ، لَنْ يُقَذِّرَ شَيْئًا وَلَنْ يُنَجِّسَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُدَرَى مَنْ هُوَ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود ایک جگہ کی طرف تشریف لے گئے' جس کا نام "بطحان " تھا ' آپ نے ارشا دفرمایا: اے انس! میرے لیے پانی تیار رکھنا' میں نے آپ کے لیے پانی تیار رکھا' قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتن کی طرف تشریف لائے ' اسی دوران ایک بلی آئی اور اس نے برتن میں منہ ڈال دیا ' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی وجہ سے رک گئے ' یہاں تک کہ بلی نے پانی پی لیا' تو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا' میں نے بلی کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا ' تو آپ نے ارشا د فرمایا: اے انس ! بلی گھر کے سامان کا حصہ ہے ' یہ کسی چیز کو گندا نہیں کرتی اور ناپاک نہیں کرتی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے' اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حفص مکی ہے' جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ' امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے؟
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Hadith 1084
