مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ باب · حديث 471
471 - وَعَنْ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ مِنَ الْيَمَنِ، فَذَكَرُوا امْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ حُجْرٍ الْكِنْدِيَّ، وَذَكَرُوا بَيْتَيْنِ مِنْ شِعْرِهِ فِيهِمَا ذِكْرُ ضَارِجِ مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ رَجُلٌ مَذْكُورٌ فِي الدُّنْيَا، مَنْسِيٌّ فِي الْآخِرَةِ، شَرِيفٌ فِي الدُّنْيَا خَامِلٌ فِي الْآخِرَةِ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُ لِوَاءُ الشُّعَرَاءِ يَقُودُهُمْ إِلَى النَّارِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سَعْدِ بْنِ فَرْوَةَ بْنِ عَفِيفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.
حضرت عفیف کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھے ، یمن کا وفد آ گیا، ان لوگو ں نے ( زمانہ جاہلیت کے مشہور شاعر ) امراء القیس بن حجر کندی کا ذکر کیا ، اس کے اشعار میں سے دو مصرعے ذکر کیے ، جن میں عرب کے پانیوں میں سے ایک پانی کے چشمے کا ذکر تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا جس کا ذکر دنیا میں ہے اور آخرت میں اسے بھلا دیا جائے گا ، وہ دنیا میں معزز ہے اور آخرت میں بے عزت ہوگا، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کے پاس شعراء کا جھنڈا ہوگا، اور وہ ان (شعراء ) کی قیادت کرتا ہوا جہنم کی طرف ( ان شعراء کو ) لے جائے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، سعد بن فردہ بن عفیف کے حوالے سے ان کے والد اور دادا سے روایت کی ہے اور میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ ← عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ
Hadith 471
