مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ الْإِسْلَامِ بِالنَّسَبِ] · حديث 335
335 - قَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: «فَوُلِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ، ثُمَّ زَيْنَبُ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَلِيًّا وَأُمَامَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي غَاضِرَةَ، فَافْتَصَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُوهُ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، فَقَالَ: " مَنْ شَارَكَنِي فِي شَيْءٍ فَأَنَا أَحَقُّ بِهِ، وَأَيُّمَا كَافِرٍ شَارَكَ مُسْلِمًا فِي شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ» ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ كَمَا تَرَى.
امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، زبیر بن بکار کا یہ بیان نقل کیا ہے : " نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سب سے بڑے تھے، پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب کی شادی ،حضرت ابو العاص بن ربیع بن عبد شمس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے ( دو بچوں ) علی اور امامہ کو جنم دیا ، علی نامی صاحبزادے ، بنو غاضرہ میں دودھ پیتے بچے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا دودھ چھڑا دیا تھا ( ان کا شیر خوار گی کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا) ان کے والد ( یعنی حضرت ابو العاص بن ربیع بن عبد شمس ) اس وقت مشرک تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی چیز میں میرا شراکت دار بن جائے ، تو اس چیز کا میں زیادہ حقدار ہوؤں گا، اور جب کافر، کسی مسلمان کا کسی چیز میں حصے دار بن جائے ، تو وہ (مسلمان ) اس چیز کے بارے میں ، اس ( کافر) سے زیادہ حقدار ہو گا"۔
Hadith 335
