مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى] · حديث 767
767 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ إِلَّا جَرَى لَهُ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ أَحْمَدُ: لَا يُعْرَفُ. قُلْتُ: وَشَيْخُ ابْنُ مَوْهَبٍ مَالِكُ بْنُ حَالِكِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيُّ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :"جو شخص اپنی زبان کو حق کے لیے استعمال کرتا ہے، تاکہ اس کے بعد اس حق پر عمل کیا جائے ، تو اس شخص کا اجر قیامت کے دن تک جاری رہتا ہے ، پھر قیامت کے دن اللہ تعالی اسے پورا ثواب عطا کرے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید اللہ بن عبداللہ بن موہب ہے، امام احمد فرماتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ( یا اس کی شناخت نہیں ہو سکی ) علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن موہب کے استاد مالک بن حالک بن حارثہ انصاری ہیں میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Hadith 767
