مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ تَصَرُّفِ الْعَبْدِ] · حديث 6813
6813 - «عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ. فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ. ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ أُكْرِمُكَ بِهَا، فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ. فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کر حاضر ہوا، میں اس وقت کسی کا غلام تھا، میں نے عرض کی: یہ صدقہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کوحکم دیا، انہوں نے اسے کھالیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے نہیں کھایا، پھر میں کھانا لے کر نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یہ تحفہ ہے، جو میں نے آپ کو پیش کیا ہے، تاکہ اس طرح میں آپ کی عزت کا اعتراف کروں، کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا، تو انہوں نے اسے کھایا اور ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھالیا۔ یہ روایت امام احمد نےنقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِطَعَامٍ ← سَلْمَانَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter on the conduct of a servant · Hadith 6813
