مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ فِي الصَّائِمِ يَأْكُلُ الْبَرَدَ] · حديث 5014
5014 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَطَرَتِ السَّمَاءُ بَرَدًا، فَقَالَ لَنَا أَبُو طَلْحَةَ - وَنَحْنُ غِلْمَانٌ -: نَاوِلْنِي يَا أَنَسُ مِنْ ذَلِكَ الْبَرَدِ. فَنَاوَلْتُهُ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ، وَهُوَ صَائِمٌ فَقُلْتُ: أَلَسْتَ صَائِمًا؟ قَالَ: بَلَى إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ وَإِنَّمَا هُوَ بَرَكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ نُطَهِّرُ بِهِ بُطُونَنَا. قَالَ أَنَسٌ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: " خُذْ عَنْ عَمِّكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا وَزَادَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ: إِنَّهُ يَقْطَعُ الظَّمَأَ.
حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں: آسمان سے ژالہ باری ہوئی تو حضرت ابوطلحہ ؓنے ہم سے کہا جب کہ ہم اس وقت لڑ کے تھے اے انس بن مالک مجھے اولے پکڑاؤ میں نے انہیں پکڑائے تو انہوں نے کھانےشروع کر دیے میں نے ان سےکہا کہ آپ کاروزہ نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ نہ توکھانے کی کوئی چیزہے‘ اور نہ پینے کی کوئی چیز ہے یہ آسمان کی برکت ہے‘ جس کے ذریعے ہم اپنے پیٹ کو پاک کر یں گے حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتا یا تو آپ نے ارشادفرمایا: اپنے چچا سے حاصل کرو۔یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں یہ روایت امام بزارنے’’موقوف‘‘روایت کےطور پرنقل کی ہے ‘اور یہ الفاظ زائدنقل کیے ہیں:”میں نے سعید بن مسیب کے سامنے یہ بات ذکر کی‘ تو انہوں نے اسے مکروہ قرارد یا اور یہ بات بیان کی کہ یہ پیاس کوختم کرتا ہے ‘‘۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › [A door in the fasting person that eats cold] · Hadith 5014
