مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ قَتَلَ حَيَوَانًا بِغَيْرِ مَنْفَعَةٍ] · حديث 6013
6013 - عَنْ عَمْرِو بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «مَا مِنْ أَحَدٍ يَقْتُلُ عُصْفُورًا إِلَّا عَجَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذَا قَتَلَنِي عَبَثًا فَلَا هُوَ انْتَفَعَ بِقَتْلِي، وَلَا هُوَ تَرَكَنِي فَأَعِيشَ فِي أَرْضِكَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
عمرو بن زید نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشادفر ماتے ہوئےسناہے:’’جوشخص کسی چڑیا کوقتل کرےگا‘قیامت کےدن وہ چڑیا بلندآوازمیں کہےگی:اے میرےپروردگار!اس نے مجھےعبث میں قتل کیاتھااس نے نہ تو میرےقتل کےذریعےکوئی نفع حاصل کیااورنہ ہی مجھےیوں رہنے دیا تا کہ میں تیری زمین میں زندہ رہتی‘‘ ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
«مَا مِنْ أَحَدٍ يَقْتُلُ عُصْفُورًا إِلَّا عَجَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ
Hadith 6013
