مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ مُنَاوَلَةِ الْمِسْكِينِ] · حديث 4624
4624 - عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: «كَانَ حَارِثَةُ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَاتَّخَذَ خَيْطًا فِي مُصَلَّاهُ إِلَى بَابِ حُجْرَتِهِ وَوَضَعَ عِنْدَهُ مِكْتَلًا فِيهِ تَمْرٌ، وَغَيْرَهُ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ الْمِسْكِينُ فَسَلَّمَ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ الْمِكْتَلِ، ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ الْخَيْطِ حَتَّى يُنَاوِلَهُ، وَكَانَ أَهْلُهُ يَقُولُونَ: نَحْنُ نَكْفِيكَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مُنَاوَلَةُ الْمِسْكِينِ تَقِي مِيتَةَ السُّوءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
عثمان نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ ان کی بینائی رخصت ہوگئی تھی انہوں نے اپنے حجرے کے دروازے کے پاس اپنی جائے نماز کے پاس ایک ڈوری لگائی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک پیمانہ رکھ لیاتھا جس میں کھجور میں اور دیگر چیزیں موجود ہوتی تھیں جب کوئی مسکین آتا تھا اور سلام کرتا تھا، تو وہ اس برتن میں سے کوئی چیز لیتے تھے، اور ڈوری کا کنارہ کنارہ پکڑتے تھے اور وہ چیز مسکین کو پکڑا دیتے تھے، ان کے اہل خانہ یہ کہتے تھے: آپ کا یہ کام ہم کردیتے ہیں، تو وہ یہ فرماتے تھے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’مسکین کو کوئی چیز پکڑانا بری موت سے بچاتا ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔
عُثْمَانَ،
Hadith 4624
