مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ عَرْضِ الْكِتَابِ عَلَى مَنْ أُمِرَ بِهِ] · حديث 685
685 - عَنْ عُمْرَ قَالَ: «كُتِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: " أَجِبْ هَؤُلَاءِ "، فَأَخَذَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ فَكَتَبَهُ ثُمَّ جَاءَ بِالْكِتَابِ يَعْرِضُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ "، فَمَا زَالَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي حَتَّى وُلِّيتُ، فَجَعَلْتُهُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْفَدَكِيُّ، قَالَ فِي الْمِيزَانِ: حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک مکتوب آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ان لوگوں کو جواب دو ! حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے وہ مکتوب لے کر اس کو جواب تحریر کیا ، پھر وہ اس تحریر کو لے کر آئے تاکہ وہ تحریر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھ کر سنائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اچھا کام کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ واقعہ میرے ذہن میں رہا یہاں تک کہ جب میں خلیفہ بنا ، تو میں نے انہیں ( یعنی حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو ) بیت المال کا نگران مقرر کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن صدقہ فد کی ہے ، مصنف نے " میزان " ( یعنی میزان الاعتدال ) میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہوتی ہے ۔
إِلَى رَسُولِ اللَّهِ كِتَابٌ ← عُمَرَ،
Hadith 685
