مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ] · حديث 6305
6305 - عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ، فَمَنْ تَوَقَّاهُنَّ كَانَ أَتْقَى لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَاقَعَهُنَّ يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ؛ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَانِبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ حُدُودُهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں جوشخص ان سے بچ کے رہتا ہے وہ اپنے دین اور اپنی عزت کومحفوظ کر لیتا ہے اور جوشخص ان میں مبتلا ہو جا تا ہے‘ تو قریب ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں میں بھی واقع ہوجائے اس کی مثال کرنے والے کی مانند ہے ‘جو چراگاہ کے اردگرد چر رہا ہوتا ہے‘ تو عنقریب وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جا تا ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی مقر رکردہ حدود ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیراور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبید در بذی ہے اور وہ ضعیف ہے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter of avoidance of likenesses · Hadith 6305
