مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ مَنِ اشْتَرَى رَقَبَةً لِيَعْتِقَهَا فَلَا يُشْتَرَطُ لِأَهْلِهَا الْعِتْقُ] · حديث 6391
6391 - عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنِ اشْتَرَى رَقَبَةً لِيَعْتِقَهَا فَلَا يُشْتَرَطُ لِأَهْلِهَا الْعِتْقُ؛ فَإِنَّهُ عُقْدَةٌ مِنَ الرِّزْقِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقُرَشِيُّ؛ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَقَوَّاهُ غَيْرُهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنَزِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’ جو شخص کوئی غلام آزاد کرنے کے لئے خریدے تو وہ اس کے مالکان کے سامنے آزادی کی شرط نہ رکھے کیونکہ یہ رزق کے حوالے سے کیا جانے والا معاہدہ ( یا سودا ) ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہےاس کی سند میں ایک راوی سعید بن فضل قرشی ہے ‘جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے قوی کہا ہے ابوعبداللہ عنزی نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کونہیں پایاہے۔
مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of the man who bought a neck to emancipate it, then it is not a condition for his family to release it.] · Hadith 6391
