مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِي الْمُفْلِسِ] · حديث 6696
6696 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: «كُنْتُ بِمِصْرَ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: بَلَى. فَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا سَرَقُ. قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! أَنْتَ تُسَمَّى بِهَذَا الِاسْمِ، وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّانِي وَلَنْ أَدَّعِ ذَلِكَ. فَقُلْتُ: [وَ] لِمَ سَمَّاكَ سَرَقَ؟ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِبَعِيرَيْنِ، فَابْتَعْتُهُمَا مِنْهُ [فَقُلْتُ: انْطَلِقْ حَتَّى أُعْطِيكَ]، ثُمَّ دَخَلْتُ بَيْتِي وَخَرَجْتُ مِنْ خَلْفٍ فَمَضَيْتُ، فَبِعْتُهُمَا، فَقَضَيْتُ بِهِمَا حَاجَتِي، وَتَغَيَّبْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ الْأَعْرَابِيَّ قَدْ خَرَجَ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا الْأَعْرَابِيُّ مُقِيمٌ، فَأَخَذَنِي، فَقَدَّمَنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: " مَاذَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ ". قُلْتُ: قَضَيْتُ بِثَمَنِهِمَا حَاجَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " اقْضِهِ ". قُلْتُ: لَيْسَ عِنْدِي. قَالَ: " أَنْتَ سَرَقُ، اذْهَبْ بِهِ يَا أَعْرَابِيُّ، فَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ حَقَّكَ ". فَجَعَلَ النَّاسُ يُسَاوِمُونَهُ، فَيَقُولُ: مَاذَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: مَا نُرِيدُ أَنْ نَبْتَاعَهُ مِنْكَ أَوْ نَفْدِيَهُ مِنْكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي، اذْهَبْ فَقَدْ أَعْتَقْتُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
عبدالرحمن بن بیلمانی بیان کرتے ہیں :میں مصر میں موجود تھا، ایک شخص نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہاری رہنمائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی طرف نہ کروں؟ میں نے کہا جی ہاں! تو انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے بتایا میں ان کے پاس گیا اور دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں سرق ( جور ) ہوں، میں نے کہا: سبحان اللہ کیا آپ نے یہ نام رکھا ہوا ہے؟ حالانکہ آپ اللہ کے رسول کے صحابی ہیں، انہوں نے فرمایا: یہ نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا تھا اور میں اسے نہیں چھوڑ دوں گا، میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام سرق کیوں رکھا تھا؟ انہوں نے بتایا ایک دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص دو اونٹ لے کر آیا، میں نے اس سے وہ دونوں اونٹ خرید لئے میں نے کہا تم چلو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں، میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور پیچھے کی طرف سے باہر نکل گیا اور چلا گیا، میں نے وہ دونوں اونٹ فروخت کر دیے اور ان کے ذریعے میں نے اپنی ضرورت پوری کی، میں چھپارہا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اب وہ دیہاتی چلا گیا ہوگا، ایک دن میں باہر آیا تو وہ دیہاتی وہاں مقیم تھا، اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور آپ کو ساری صورت حال کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے جو کیا ہے ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے عرض کی : میں نے اس کی قیمت اپنی ضرورت میں استعال کرلی ہے، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: تم اسے ادائیکی کرو، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ’’سرق‘‘ ہو، اے دیہاتی! تم اسے لے جاؤ اور اسے فروخت کر دو، یہاں تک کہ اپنا حق پورا کر لو، لوگوں نے اس شخص کے ساتھ بھاؤ تاؤ شروع کیا، اس نے دریافت کیا تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں یا تواسے تم سے خرید لیں یا تمہاری طرف سے اسے فدیہ دے دیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم تم میں سے کوئی ایک مجھ سے زیادہ اس کا محتاج نہیں ہے، تم جاؤ ؟ میں نے تمہیں آزاد کیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے، جسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے۔
كُنْتُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ
Hadith 6696
