مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِي الْبَيْعِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَبَيْعِ الْمُزَايَدَةِ] · حديث 6377
عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ الْقَطَّانُ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کے شادی کےپیغام پر شادی کا پیغام بھیجے‘ یا اس کے سودے پر سودا کرے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن داور قطان ہے‘ جسے ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام ابوداؤ داور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
سَمُرَةَ
Hadith 6377
