مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا أَوْ جَامَعَ] · حديث 4975
4975 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَفْطَرْتُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ؟ قَالَ: " مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا سَفَرٍ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " بِئْسَ مَا صَنَعْتَ ". قَالَ: [أَجَلْ] فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً ". قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مَلَكْتُ رَقَبَةً قَطُّ. قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ". قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ. قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ". قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُشْبِعُ أَهْلِي. قَالَ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْيَلٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا ". قَالَ: إِلَى مَنْ أَدْفَعُهُ؟ قَالَ: " إِلَى أَفْقَرِ مَنْ تَعْلَمُ ". قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ قُتْرَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا. قَالَ: " فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى عِيَالِكَ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میں نے رمضان کے ایک دن میں روزہ نہیں رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کسی عذر کے بغیر اور سفر کے بغیر؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے برا کیا ہے اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: تم ایک غلام آزاد کرو اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوان کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں کسی بھی غلام کا مالک نہیں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلسل دو ماہ روزے رکھو اس نے عرض کی: میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں تو اپنے گھر والوں کو سیر ہو کے کھانا نہیں کھلا سکتا راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں کھجور یں موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں ساٹھ مسکینوں میں صدقہ کر دو اس نے عرض کی : میں یہ کس کو دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سب سے زیادہ محتاج شخص کو جس کے بارے میں تم جانتے ہو اس نے عرض کی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے پورے شہر میں ہمارے گھر والوں سے زیادہ محتاج اور کوئی نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے اپنے عیال پر صدقہ کرو۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ قُتْرَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا. ← «إِلَى أَفْقَرَ مَنْ تَعْلَمُ» ← إِلَى مَنْ أَدْفَعُهُ ← تصدق بهذا على ستين مسكينا ← فَأَتَى النَّبِيُّ بِمِكْيَلٍ فِيهِ تَمْرٌ ← وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُشْبِعُ أَهْلِي. ← فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا ← لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ← فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ← وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مَلَكْتُ رَقَبَةً قَطُّ. ← «أَعْتِقْ رَقَبَةً» ← أَجَلْ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ ← «بِئْسَ مَا صَنَعْتَ» ← نَعَمْ ← «مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا سَفَرٍ؟» ← إني أفطرت يوما من رمضان ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › [Chapter of those who broke the fast in the month of Ramadan deliberately or intercourse] · Hadith 4975
