مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالْحَجَرِ] · حديث 1053
1053 - «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءَ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فَسَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ الزُّهْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا، وَهُوَ الَّذِي أَشَارَ بِجَلْدِ مَالِكٍ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: " اس (مسجد ) میں ایسے لوگ ہیں' جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کریں' اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے"۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے (ان کے معمول کے بارے میں) دریافت کیا' تو انہوں نے بتایا: (قضائے حاجت کے بعد ) پتھر استعمال کرنے کے بعد ' ہم پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے' اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز بن عمر زہری ہے' جسے امام بخاری ' امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور یہ وہی شخص ہے' جس نے امام مالک کو کوڑے لگانے کا مشورہ دیا تھا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 1053
