مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَحْكَامِ] ‹ [بَابُ التَّحْكِيمِ] · حديث 7007
7007 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَلَامٌ، فَقَالَ: " أَجْعَلُ بَيْنِي وَبَيْنَكِ عُمَرَ؟ ". فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: " أَجْعَلُ بَيْنِي وَبَيْنَكِ أَبَاكِ؟ ". قُلْتُ: نَعَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ صدیقہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی بارے میں اختلافا ہو گیا، تو نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے اور تمہارے درمیان عمر کوثالث بناتا ہوں، میں نے عرض کی:جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے اور تمہارے درمیان، تمہارے والد کو ثالث بنا دیتا ہوں؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صان بن ابواسود ہے اور وہ ضعیف ہے۔
«أَجْعَلُ بَيْنِي وَبَيْنَكِ عُمَرَ؟» فَقُلْتُ: لَا. ← كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ كَلَامٌ، ← عَائِشَةَ
Hadith 7007
