مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6233
6233 - وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهِيكٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وَأَهْلَ بَيْتِي مَرْزُوقُونَ مِنْ هَذَا الصَّيْدِ، وَلَنَا فِيهِ قَسْمٌ، وَبَرَكَةٌ، وَهُوَ مَشْغَلَةٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ، وَبِنَا إِلَيْهِ حَاجَةٌ أَفَتُحِلُّهُ أَمْ تُحَرِّمُهُ؟ فَقَالَ: " أُحِلِّهُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحَلَّهُ، نِعْمَ الْعَمَلُ، وَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي لِلَّهِ رُسُلٌ كُلُّهُمْ يَصْطَادُ وَيَطْلُبُ الصَّيْدَ، وَيَكْفِيكَ مِنَ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ إِذَا غِبْتَ عَنْهَا فِي طَلَبِ الرِّزْقِ حُبُّكَ لِلْجَمَاعَةِ، وَأَهْلِهَا، وَحُبُّكَ ذِكْرَ اللَّهِ، وَأَهْلَهُ. وَابْتَغِ عَلَى نَفْسِكَ، وَعِيَالِكَ حَلَالًا، فَإِنَّ ذَلِكَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -، وَاعْلَمْ أَنَّ عَوْنَ اللَّهِ فِي صَالِحِ التِّجَارَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے حضرت عرفطہ بن نہیک تمیمی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی : یارسول اللہ ! میں اور میرے گھر والے شکار کے ذریعے رزق حاصل کرتے ہیں ۔ اس میں اسی میں ہمارا حصہ ہے اور اسی میں ہمارا رزق ہے لیکن یہ چیز اللہ کے ذکر سے اور باجماعت نماز ادا کرنے سے روک دیتی ہےاور ہمیں اس کی حاجت بھی ہے‘ تو کیا آپ اسے حلال قراردیتے ہیں یا اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے حلال قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے یہ ا چھا کام ہے اور اللہ تعالیٰ عذر قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے مجھ سے پہلے کے اللہ تعالیٰ کے کچھ رسول تھے اور وہ سب شکار کیا کرتے تھے اور شکار کا پیچھا کیا کرتے تھے باجماعت نماز کے حوالے سے تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب تم رزق کے حصول کے سلسلے میں اس میں شریک نہ ہوسکو توتمہیں جماعت اوراہل جماعت کے ساتھ محبت رکھنی چاہے تمہیں اللہ کا ذکراور اللہ کا ذکر کرنے والے کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے تمہیں اپنی ذات اور اپنے اہل وعیال کے لئے حلال رزق تلاش کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی راہ میں جہادکرنے کے متراف ہے اور تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد نیک تجارت میں ہوتی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے۔
كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهِيكٍ التَّمِيمِيُّ، فَقَالَ: ← وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ
Hadith 6233
