مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَتْحِ الْبَابِ فِي الصَّلَاةِ] · حديث 2460
2460 - «عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَائِمًا يُصَلِّي وَالْبَابُ مُجَافٍ مَا يَلِي الْقِبْلَةَ مُتَنَحِّيًا مِنَ الْمَسْجِدِ فَاسْتَفْتَحْتُ فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتِي أَهْوَى بِيَدِهِ فَفُتِحَ الْبَابُ ثُمَّ مَضَى عَلَى صَلَاتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الَّذِي فِي الْبَابِ قَبْلَهُ، وَالْحَدِيثُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ حَتَّى فَتَحَ لَهَا ثُمَّ رَجَعَ، وَكَأَنَّ هَذِهِ قِصَّةٌ أُخْرَى فِي الْبَيْتِ وَتِلْكَ فِي الْمَسْجِدِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ اس وقت نماز کی مخصوص جگہ پر کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے، اور دروازہ بند تھا وہ دروازہ قبلہ والی سمت میں تھا لیکن نماز کی جگہ سے ذرا ہٹ کے تھی میں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا جب آپ نے میری آواز سنی تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھا یا اور دروازہ کھول دیا اور پھر آپ نے اپنی نماز جاری رکھی۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جس کا ذکر اس سے پہلے والے باب میں ہوا ہے، اور یہ حدیث امام داؤد اور امام ترمذی اور امام نسائی نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم گھر میں نماز ادا کر رہے تھے دروازہ بند تھا نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے لئے دروازہ کھولا اور پھر اپنی جگہ چلے گئے"۔ یوں لگتا ہے کہ وہ دوسرا واقعہ ہے، جو گھر کے بارے میں ہے، اور یہ واقعہ مسجد کے بارے میں ہے۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › The door opening the door in prayer] · Hadith 2460
