مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ مِنْهُ فِيمَنْ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ] · حديث 3094
3094 - عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلَيْنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَزْرَقِ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَفَضَّ وَقَعَدَ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْنَا: رَحِمَكَ اللَّهُ لَوْ كُنْتَ وَصَلْتَ إِلَيْنَا كَانَ أَرْفَقَ بِكَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ [يَوْمَ الْجُمُعَةِ] بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ أَوْ فَرَّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ كَالْجَارِّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
عمار بن سعد بیان کرتے ہیں : عثمان بن ازرق ' جمعہ کے دن ہمارے پاس مسجد میں آئے امام اس وقت خطبہ دے رہا تھا وہ مسجد میں بیٹھ گئے ہم نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے اگر آپ ہمارے پا س آ جاتے تو یہ آپ کے لئے زیادہ سہولت کا باعث ہوتا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص امام کے آجانے کے بعد جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے یا دو آدمیوں کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے ' تو اس کی مثال آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹنے والے شخص کی مانند ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے' اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زید ہے' جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔
عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › A door from it for those who cross people's necks] · Hadith 3094
