مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الْفَصْلِ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالتَّطَوُّعِ] · حديث 3398
3398 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبداللہ بن رباح نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عصر کی نماز ادا کی، پھر ایک صاحب کھڑے ہو کر نمازاد اکرنے لگے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اہل کتاب اس لئے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے کہ ان کی نماز کے لئے کوئی فصل نہیں ہوتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فر مایا : ابن خطاب نے اچھی بات کہی ہے۔یہ روایت امام احمد نے اور امام ابو یعلی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال"صحیح" کے رجال ہیں۔
رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ
Hadith 3398
