مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ سَقْيِ الْمَاءِ] · حديث 4724
4724 - عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ - أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ - عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّهُ «سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ؟ قَالَ: " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ ". حَتَّى قَالَ لَهُ ذَلِكَ مَرَّاتٍ، قَالَ: لَا. قَالَ: " فَاسْقِ الْمَاءَ ". قَالَ: وَكَيْفَ أَسْقِيهِ؟ قَالَ: " اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ، وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا ". وَفِي رِوَايَةٍ: " تَكْفِيهِمْ آلَتَهُ إِذْ حَضَرُوهُ، وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَدْ جَهِلَ الْحُسَيْنِيُّ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ. وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَالرَّاوِي ثِقَةٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ; فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَةُ.
عياض بن مرثد یا مرثد بن عیاض اپنے ایک فرد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتایئے جو مجھے جنت میں داخل کروادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چند مرتبہ یہی چیز در یافت کی، تو انہوں نے عرض کیا: جی نہیں نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: پھرتم پانی پلاؤ انہوں نے عرض کی: میں کیسے پانی پلاؤں؟ اسے پلاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب لوگ پانی کے پاس موجود ہوں تو تم آلہ (ڈول) کے ساتھ ان کی کفایت کرو (یعنی انہیں پانی نکال کر دے دو ) اور جب وہ موجود نہ ہوں، تو پانی لاد کر ان کی طرف لے جاؤ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:”جب لوگ پانی کے پاس موجود ہوں توتم آلہ کے حوالے سے تم ان کی کفایت کرو اور جب وہ دور ہوں توتم لاد کر ان کی طرف لے جاؤ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ حسینی عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض نامی راوی سے ناواقف ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے ان سے نقل کی ہے۔ کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا راوی ثقہ ہے، اور’’صحیح ‘‘کے رجال میں سے ہے، تو اس اعتبار سے اس کا مجہول ہو ناختم ہوجاتا ہے۔
رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّهُ «سَأَلَ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › Door of watering · Hadith 4724
