مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِي هَدَايَا الْكُفَّارِ] · حديث 6747
6747 - عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ أَحَبَّ رَجُلٍ إِلَيَّ مِنَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ - وَهُوَ كَافِرٌ - فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنٍ تُبَاعُ، فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً؛ فَأَبَى، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُهُ قَالَ: " إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ ". فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ: «فَلَبِسَهَا فَرَأَيْتُهَا عَلَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا أَحَسَنَ مِنْهُ فِيهَا يَوْمَئِذٍ. ثُمَّ أَعْطَاهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَرَآهَا حَكِيمٌ عَلَى أُسَامَةَ، فَقَالَ: يَا أُسَامَةُ، أَنْتَ تَلْبِسَ حُلَّةَ ذِي يَزَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ لَأَنَا خَيْرٌ مِنْ ذِي يَزَنٍ، وَلَأَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ. قَالَ حَكِيمٌ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أُعْجِبُهُمْ بِقَوْلِ أُسَامَةَ». وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَلَهُ طَرِيقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَحْسَنُ، وَأَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
عراک بن مالک بیان کرتے ہیں: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے زمانہ جاہلیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا اور آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے، تو حج کے موقع پر حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ آئے وہ اس وقت کافر تھے، انہوں نے ذی یزن کا حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا، تو اسے پچاس دینار کے عوض میں خرید لیا تاکہ وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر دے دیں، پھر وہ اسے ساتھ لے کر مدینہ منوره آئے، ان کی یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تحفے کے طور پر اسے قبول کر لیں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا۔ عبید اللہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے ہیں، البتہ اگر تم چاہو، تو ہم قیمت کے عوض میں حاصل کر لیتے ہیں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، تو وہ میں نے آپ کو دے دیا (یعنی قیمت کے عوض میں دے دیا)۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے پہن کر منبر پر تشریف فرما ہوئے، اس دن اس جبہ میں آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دے دیا، جب حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اُسے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو پہنے ہوئے دیکھا، تو بولے اے اسامہ: کیا تم ذی یزن کا حلہ پہنے ہوئے ہو؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں ! میں زی یزن سے بہتر ہوں، اور میرے والد اس کے والد سے زیادہ بہتر ہیں، حضرت حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں اہل مکہ کی طرف چلا گیا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول کے حوالے سے انہیں بتایا، تو وہ بڑے حیران ہوئے۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کی ایک اور سند بھی ہے، جو علامات نبوت کے باب میں زیادہ احسن طریقے سے آئے گی، اور یہاں سے زیادہ واضح ہو گی، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے بارے میں ہے۔
عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter on the gifts of the unbelievers] · Hadith 6747
