مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ تَلْقِينِ الْمَيِّتِ بَعْدَ دَفْنِهِ] · حديث 4248
4248 - عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوَدِيِّ قَالَ: «شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ، وَهُوَ فِي النَّزْعِ فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [أَنْ نَصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانَةَ. فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ. ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانَةَ. فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا. ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانَةَ. فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ - وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ - فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللَّهِ، رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللَّهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا ". [فَـ] قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: " فَيَنْسِبُهُ إِلَى حَوَّاءَ: يَا فُلَانُ بْنَ حَوَّاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سعید بن عبداللہ اودی بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، وہ نزع کے عالم میں تھے، انہوں نے ارشاد فرمایا: جب میں مر جاؤں، تو تم میرے ساتھ اُسی طرح کرنا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ ہم اپنے مرحومین کے ساتھ کیا کریں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: ’’جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے اور تم اُس کی قبر پر مٹی کو برابر کر دو، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو، اور پھر یہ کہے: اے فلاں بن فلانہ! کیونکہ وہ مردہ اسے سن رہا ہوگا، اور اُسے جواب نہیں دے سکتا ہو گا، پھر وہ شخص یہ کہے:اے فلاں بن فلا نہ تو وہ مردہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا، پھر وہ شخص یہ کہے: اے فلاں بن فلانہ! تو مردہ کہے گا: تم ہماری رہنمائی کرو! اللہ تعالیٰٰ تمہاری رہنمائی کرے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن تم لوگوں کو اس کا شعور نہیں ہوگا، پھر آدمی کو یہ کہنا چاہیے: تم اس چیز کو یاد کرو! جس چیز پر تم دنیا سے رخصت ہوئے تھے، اور وہ اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں اور تم اللہ تعالیٰٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے اور قرآن کے امام ہونے سے راضی تھے (یعنی ان پر ایمان رکھتے تھے)۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:) تو منکر اور نکیر میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے، اور یہ کہتا ہے: اب ہم چلے ہیں، ہم ایسے شخص کے پاس نہیں بیٹھیں گے، جس کی حجت کی اُسے تلقین کر دی گئی ہو، تو الله تعالىٰ اُن دونوں سے پہلے حجت عطا کرنے والا ہوتا ہے، ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آدمی اس کی ماں کا نام نہ جانتا ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو پھر وہ اس کی نسبت سیّدہ حواء رضی اللہ عنہ کی طرف کر دے اور یہ کہے: اے فلاں بن حواء! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے، جن میں سے واقف نہیں ہوں ۔
سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ،
Hadith 4248
