مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ] · حديث 2344
2344 - «عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ صَلَّى بِقَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي نَسِيتُ أَنْ أَسْتَأْمِرَكُمْ قَبْلَ أَنْ أَتَقَدَّمَ، أَرْضَيْتُمْ بِصَلَاتِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، وَمَنْ يَكْرَهُ ذَلِكَ يَا حَوَارِيَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ أُذُنَيْهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ الطِّلْحِيِّ قَالَ فِيهِ أَبُو زُرْعَةَ: عَامَّةُ أَحَادِيثِهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا، وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ: صَاحِبُ مَنَاكِيرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.
حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ انہوں نے لوگوں کی امامت کی جب انہوں نے نماز مکمل کی تو وہ بولے میں یہ بھول گیا تھا کہ آگے بڑھنے سے پہلے تم لوگوں سے اجازت لیتا کیا تم لوگ میری نماز(یعنی میری امامت سے راضی ہو) ؟ لوگوں نے عرض کی :جی ہاں ! اے اللہ کے رسول کے حواری! اس بات کو کون نا پسند کرے گا، تو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے، اور وہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں تو اس شخص کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی"۔ یہ روایت اما م طبرانی نے معجم کبیر میں سلیمان بن ایوب طلحی کے حوالے سے نقل کی ہے، جس کے بارے میں ابوزرعہ نے یہ کہا ہے، اس کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے "میزان" کے مصنف کہتے ہیں: یہ منکر روایات نقل کرنے والے شخص ہے، اس کی توثیق کی گئی ہے۔
طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ
Hadith 2344
