مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ] · حديث 4173
4173 - عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى - مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ - عَلَى جِنَازَةٍ، فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، [قَالَ]: صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ فِيهِ كَلَامٌ.
یحییٰ بن عبداللہ جابر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام عیسٰی کے پیچھے مدائن میں نماز جنازہ ادا کی ‘تو انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: نہ تو مجھے وہم ہوا ہے ‘ اور نہ ہی میں بھولا ہوں ‘ لیکن میں نے اسی طرح تکبیر کہی ہے ‘ جس طرح میرے آقا اور میرے ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تھی انہوں نے ایک نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے پانچ تکبیریں کہی تھیں اور پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر یہ بولے تھے کہ نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی میں وہم کا شکار ہوا ہوں بلکہ میں نے اسی طرح تکبیر کہی ہے ‘ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تھی آپ نے ایک نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ یحییٰ جابر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ
Hadith 4173
