مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6690
6690 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «اسْتَسْلَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعِينَ صَاعًا فَاحْتَاجَ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا جَاءَنَا شَيْءٌ بَعْدُ ". فَقَالَ الرَّجُلُ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا، فَأَنَا خَيْرُ مَنْ تَسَلَّفَ ". فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ فَضْلًا، وَأَرْبَعِينَ لِسَلَفِهِ فَأَعْطَاهُ ثَمَانِينَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارسے تعلق رکھنے والے سے ایک شخص سے کھجوروں کے چالیس صاع لیے، وہ انصاری محتاج ہو گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ہمارے پاس کوئی چیز نہیں آئی، اس شخص نے کوئی بات کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم صرف بھلائی کی بات کرنا کیونکہ میں ادھار لینے والوں میں سب سے بہتر ہوں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس صاع اضافی عطا کیے اور چالیس صاع اس کے ادھار کے واپس کیے، تو آپ نے اسے اَسّی صاع دیے۔ یہ روایت امام بزارنے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کے رجال ہیں، صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے۔
رسولُ الله "لا تقلْ إلا خيراً، ← الرجلُ، وأراد أنْ يتكلَّم؛ ← رَسُولُ اللَّهِ مَا جَاءَنَا شَيْءٌ بَعْدُ ← استسلف النبيُّ مِنْ رجلٍ مِنَ الأنْصارِ أربعين صاعاً، فاحْتاج الأنصاريُّ، فأتاهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 6690
