مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الصَّدَقَةِ] · حديث 6830
6830 - عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ عَرِيفِ بْنِ سَرِيعٍ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ: رَجُلٌ كَانَ فِي حِجْرِي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ، ثُمَّ مَاتَ، وَأَنَا وَارِثُهُ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ قَدْ أَوْقَفَهُ يَبِيعُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَنَهَاهُ [عَنْهُ]. وَقَالَ: " إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
ابوعفير عريف بن سریع بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اس نے کہا: ایک شخص جو میرے زیر پرورش ہے، میں نے اسے ایک کنیز صدقے کے طور پر دی، پھر وہ شخص مر گیا، میں اس کا وارث بنا، توحضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے، ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا، اللہ کی راہ میں دیا، پھر انہوں نے گھوڑے کے مالک کو پایا کہ اس نے اس گھوڑے کو فروخت کرنے کے لئے پیش کیا ہوا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس گھوڑے کو خریدنے کا ارادہ کیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا اور فرمایا: جب تم نے کوئی چیز صدقہ کر دی ہو، تو اسے ایسے ہی رہنے دو۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ،اس کی سند میں ایک راوی رشدین سعد ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔
أَبِي عُفَيْرٍ عَرِيفِ بْنِ سَرِيعٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of Hateful Purchase of Charity] · Hadith 6830
