مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ] · حديث 2772
2772 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] كَانَ يُكَبِّرُ إِذَا قَرَأَهَا وَيَرْكَعُ وَيَقُولُ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِ الثَّلَاثَةِ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَمَّادًا وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی :" جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی "۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی اس کو پڑھتے تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے تھے ، اور یہ پڑھتے تھے : " تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے بے شک تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہ ے" ۔ یہ روایت احمد امام ابو یعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تینوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابو عبیدہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کے رجال " صحیح " کے رجال ہیں صرف حماد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ " ثقہ " ہے لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Hadith 2772
