مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ السُّؤَالِ عَنِ الْفِقْهِ] · حديث 753
753 - عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي السُّلَمِيَّ - قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْخُذُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ. قَالَ: فَيُعَلِّمُنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ.
ابو عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : ہمیں ان صحابی نے یہ بات بتائی ہے جو ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے ، وہ فرماتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دس آیات سیکھتے تھے ، تو اگلی دس آیات کا علم اس وقت تک حاصل نہیں کرتے تھے ، جب تک وہ پہلے والی دس آیات میں موجود علم اور عمل کے ہر پہلو سے واقف نہیں ہو جاتے تھے، وہ صحابی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں علم اور عمل (دونوں کی ) کی تعلیم دیتے تھے ۔ یہ رایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطا ء بن سائب ہے جو عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي السُّلَمِيَّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter on the Question on Fiqh] · Hadith 753
