مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 112
112 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ: " فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي عَنِ الْإِيمَانِ قَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: " فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ " قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي: مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " سُبْحَانَ اللَّهِ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ ". قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَحَدِّثْنِي، قَالَ: قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا - أَوْ رَبَّهَا - وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الْبُنْيَانِ يَتَطَاوَلُونَ بِالْبُنْيَانِ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ - فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَمِنْ أَشْرَاطِهَا ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ أَصْحَابُ الْبُنْيَانِ الْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ: " الْعَرِيبُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي الْبَزَّارِ: «أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَيْئَةِ رَجُلٍ شَاحِبٍ مُسَافِرٍ». وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرما تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے، انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں ، اور بولے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے ،کہ، تم اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دو اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، انہوں نے دریافت کیا: جب میں ایسا کر لوں گا، تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ایسا کرو گے ، تو تم مسلمان ہو گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ، موت ، موت کے بعد کی زندگی پر ایمان رکھو ، اور تم جنت ، جہنم ، حساب ، اور میزان پر ایمان رکھو، اور تم ہر قسم کی اچھی یا بری تقدیر پر ایمان رکھو، انہوں نے عرض کی: جب میں ایسا کروں گا تو کیا میں مؤمن ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے تو تم مؤمن ہو گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے بتائیے ، احسان سے کیا مراد ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لیے یوں عمل کرو ! گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) " بے شک قیامت کا علم ، اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور وہ جانتا ہے کہ جو رحم میں ہے، اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ پر مرے گا، بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے" ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا) لیکن اگر تم چاہو تو میں اس سے پہلے رونما ہونے والی کچھ نشانیاں تمہیں بتا دیتا ہوں ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کنیز کو دیکھو کے اس نے اپنی مالکن کو ( راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ تھے: ) اپنے آقا کو جنم دیا ہے، یا تم عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو دیکھو کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ، طویل عمارتیں بنا رہے ہیں ، اور تم دیکھو کہ جن لوگوں کے پاس جوتے بھی نہیں تھے، وہ بھوکے تھے ، تنگدست تھے ، وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں، تو یہ امور قیامت ( قریب آنے ) کی علامات اور نشانیوں میں سے ہوں گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! عمارتوں والے وہ لوگ ، جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہ ہونگے ، اور جو بھوکے ہوں ، اور تنگ دست ہوں ، ان سے مراد کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غریب یا تنگدست) یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم امام بزار کی روایت میں یہ لفظ ہیں : " حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ، ایک نوجوان ضرورت مند مسافر شخص کی شکل میں حاضر ہوئے"۔ امام احمد کی سند میں ، ایک راوی شہر بن حوشب ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 112
