مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ تَرَكَ الْخَيْرَ وَالْحَجَّ لِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا] · حديث 5261
5261 - عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَدَعُ أَنْ يَمْشِيَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَّا مَشَى مِنْهَا فِي سُخْطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَدَعُ أَنْ يُنْفِقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَنْفَقَ أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً فِي سُخْطِ اللَّهِ، وَلَا يَدَعُ الْحَجَّ لِغَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا رَأَى الْمُحَلِّقِينَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ تِلْكَ الْحَاجَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت ابو حجیفہ ؓروایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر ما یا:’’ جوبھی بندہ یا کنیز اپنے کسی مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جانے کو ترک کر دیتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی نارانگی میں (اتناہی ) چل کر جاتے ہیں اور جوشخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے کوترک کر دیتا ہے ‘تو وہ اس کا کئی گنا زیادہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں خرچ کرتا ہے ‘اور جوشخص کسی دنیاوی غرض سے حج کوترک کر دیتا ہے‘ تو وہ اس (دنیاوی) حاجت کے پورا ہونے سے پہلے ہی سر منڈوائےہوئے لوگوں کو دیکھ لیتا ہے ( یعنی اس کا وہ کام پورا ہونے سے پہلے ہی‘ حاجی لوگ حج کر کے واپس آ چکے ہوتے ہیں )‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم اسدی ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
أَبِي جُحَيْفَةَ
Hadith 5261
